افتخار فردوس
پاکستان افغانستان کا بڑھتا ہوا تنازعہ : آخر مسئلہ ہے کیا؟
By | افتخار فردوس
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ ترین کشیدگی دہائیوں میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سب سے سنگین تصادم میں سے ایک ہے۔ اس کی سنگینی کا جائزہ یوں لیا جا سکتا ہے کہ جب سے طالبان حکومت آئی ہے تب سے اب تک پہلی مرتبہ پاکستان نے سرحد پار ایسے حملے کیے ہیں۔ اور یہ صرف سرحدی کشیدگی ہی نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں کہیں زیادہ پیچیدہ تاریخی اور جغرافیائی سیاسی تناظر سے جڑی ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات شاذ و نادر ہی خالصتاً دو طرفہ رہے ہیں۔ پچھلی ایک دہائی ہیں متوازن تعلقات کو فروغ دینے کی تمام تر کوششیں ناکام ہی ہوئی ہیں۔ اور اس کی بڑی وجہ خطے میں تیزی سے ہونے والی تبدیلی اور ماضی کی دیرینہ چپکلش ہے۔ ماضی کی الجھنوں کے سائے موجودہ فیصلوں پر اثرانداز ہوتے رہتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے لیے شکایات اور عدم اعتماد سے آگے بڑھنا مشکل ہو گیا ہے۔
تاریخی واقعات پر اگر نظر ڈالی جائے تو وہ بتاتے ہیں کہ ان مسائل کی جڑیں کتنی گہری ہیں۔ 1839 اور 1947 کے درمیان، انگریزوں نے مغربی سرحد کے ساتھ ساتھ 63 تعزیراتی مہمات کیں۔ یہ عرصہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد برطانوی فوجی تاریخ کے سب سے پیچیدہ مراحل میں سے ایک ہے۔ اس وقت کے برطانوی جائزوں نے بار بار ہونے والی بدامنی کو تین اہم عوامل سے منسوب کیا: افغان حکمران امیر عبدالرحمن خان کی طرف سے مبینہ طور پر قبائلی اشتعال انگیزی، بہتر ہتھیاروں کا پھیلاؤ جس نے میدان جنگ کے توازن کو تبدیل کر دیا، اور وہ پروپیگنڈہ جس کے تحت یہ کہا گیا کہ عیسائی اور برطانوی طاقتیں ملکر سلطنت عثمانیہ کے خلاف کام کر رہی ہیں۔
پاکستان کے قیام کے تقریباً آٹھ دہائیوں کے بعد اب بھی سٹریٹجک پیٹرن نمایاں طور پر ویسا ہی نظر آتا ہے۔ جب کہ اداکار بدل گئے ہیں، لیکن حالات ویسے ہی ہیں۔آج ان کرداروں پر طالبان کا قبضہ ہے، افغانستان میں نیٹو کے جدید آلات ہیں، اور امریکہ کے دیرپا سٹریٹجک اثرات اب بھی باقی ہیں۔
موجودہ بحران 21 فروری 2026 کو سرحد پار فائرنگ کے تبادلے پرشروع ہوا اور شدت اختیار کر گیا، جس میں معمولی بارڈر کی جھڑپیں ایک بڑے فوجی تصادم میں بدل گئیں۔ اور ان میں مزید اضافہ تب ہوا جب پاکستان کے اندر حملوں کی ایک سیریز کے جواب میں پاک فضائیہ نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے افغانستان کے اندر کارروائی کی۔ اور ستائیس فروری تک پاکستان کی طرف سے مکمل طور پر کہہ دیا گیا کہ یہ اب ایک کھلی جنگ ہے۔ جس نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے ہر حملے کا جواب دیا جائے گا۔
پاکستان کو روایتی فوجی صلاحیتوں میں افغانستان کی نسبت واضح برتری حاصل ہے۔ اس کی فوج کے پاس مضبوط کمانڈ ڈھانچہ، جدید نگرانی اور مواصلاتی نظام، اور اعلیٰ روایتی ہتھیار ہیں، بشمول توپ خانہ، مارٹر اور فضائی طاقت۔ مغربی سرحد پر مضبوط چوکیاں، باڑ لگانے کا انفراسٹرکچر اور بہتر لاجسٹک سپورٹ پاکستان کی آپریشنل پوزیشن کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
ان فوائد نے پاکستان کو موقع دیا ہے کہ وہ اس تنازع کو روایتی جنگ جسے کنوینشنل وار کہتے ہیں اس تک محدود کر دے۔ اس کے بر عکس افغان طالبان کی فوج ، زیادہ تر فاسد جنگی حکمت عملیوں پر انحصار کرتی ہیں اور وہ روایتی فوجی صلاحیت کا مقابلہ آسانی سے نہیں کر سکتے۔
حالیہ حملوں نے مغربی سرحد کے کچھ حصوں کے ساتھ افغان فوجی انفراسٹرکچر کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے۔ ایک طرف جہاں کنوینشنل جنگ جاری ہے وہیں دوسری طرف بیانیے کا محاز بھی بھرپور کھلا ہوا ہے۔ پاکستان اپنے حملوں کو انسداد دہشت گردی کی کوشش کے طور پر پیش کرتا ہے جس میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ افغان حکام ان حملوں کو قومی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔
سرحد پار حملوں کی پاکستان کی حکمت عملی کا مقصد ٹی ٹی پی کی قیادت کے نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور عسکریت پسندوں کی سپلائی چین میں خلل ڈالنا ہے۔ مختصر مدت میں، اس طرح کی کارروائیاں عسکریت پسندوں کی آپریشنل رفتار کو کم ان کی حملہ کرنےصلاحیتوں کو کمزور بھی کر سکتی ہیں۔
تاہم سرحد پار آپریشنز کے خطرات بھی کم نہیں ہوتے۔ ماضی میں اسی طرح کے حملوں نے عسکریت پسند دھڑوں کے درمیان انتقامی تحریک کو بھی جنم دیا ہے اور افغان گروپوں کے درمیان پاکستان مخالف اتحاد کو مضبوط کیا ہے۔ اور اگر پاکستان کے اندر دہشت گردی میں شدت آتی ہے تو متوازی سفارتی بات چیت کے بغیر ٹیکٹیکل کامیابی لانگ ٹرم مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
پاکستان کا افغانستان کو روایتی میدان جنگ میں کھینچنے کا فیصلہ اس کی فوجی طاقت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ طالبان کا تجربہ بنیادی طور پر گوریلا جنگ میں ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ یہ تنازعہ زیادہ طویل اور غیر متناسب جدوجہد میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، افغان طالبان اپنی کمتر روایتی صلاحیتوں کی تلافی کے لیے پاکستان میں مسلح غیر ریاستی عناصر پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کےخیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں کو غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔ اور پاکستان کے شہری علاقوں میں حملوں کی سہولت کاری بھی کر سکتے ہیں۔
پاکستانی طالبان کے دھڑوں کی طرف سے ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے کے مطالبات کے باوجود پاکستانی ریاست اپنے فیصلے پر ڈٹی ہوئی ہے۔ تاہم، پاکستان کے اندر فوری طور پر بڑے پیمانے پر شہروں میں دہشت گرد کارروائیوں کی عدم موجودگی مسئلے کے خاتمے کا اشارہ نہیں دیتی۔ اس تنازعے کا علاقائی استحکام پر طویل المدتی اثرات چھوڑنے کا بھی خطرہ ہے۔
فوجی کارروائی کا سہارا لینے سے پہلے، پاکستان نے کئی سفارتی اقدامات کی کوشش کی تھی جس کا مقصد افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ ان میں سرحد کی بندش، بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی وطن واپسی، اور متعدد سفارتی دورے بھی شامل ہیں۔
یہ کوششیں مطلوبہ نتائج پیدا کرنے میں ناکام رہیں۔ افغان حکام نے بڑی حد تک پاکستان کے الزامات کو مسترد کر دیا جس سے اسلام آباد میں اس تاثر کو تقویت ملی کہ صرف سفارتی دباؤ پالیسی میں تبدیلیوں پر مجبور نہیں کر سکے گا۔
وسیع تر علاقائی ماحول بھی تیزی سے بدل رہا ہے۔ افغانستان میں سپلائی کے راستے اور اقتصادی بہاؤ وسیع جغرافیائی سیاسی تناؤ کی وجہ سے زیادہ غیر یقینی ہو گئے ہیں، بشمول ایران اور مشرق وسطیٰ ۔ افغان طالبان کے متعدد روایتی مالی حمایتیوں کو اپنے اسٹریٹجک مسائل کا سامنا ہے، اگر تنازع جاری رہتا ہے تو افغانستان کی اقتصادی کمزوریاں مزید گہری ہو سکتی ہیں۔
اس تصادم نے پہلے ہی پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے سٹریٹیجک منظر نامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کے تنازعہ کے طور پر جو شروع ہوا وہ علاقائی سلامتی پر مضمرات کے ساتھ ایک وسیع جغرافیائی سیاسی مسئلے میں تبدیل ہو گیا ہے۔
اب صورتحال ایک طویل تنازع کی شکل اختیار کر لیتی ہے یا ایک کنٹرولڈ مسئلے کے طور پر سامنے آتی ہے ان دونوں صورتوں کا فیصلہ تب ہی ہو سکے گا جب دونوں اطراف سے اس مسئلے پر سنجیدگی سے بات کی جائے گی۔ فوری طور پر جنگ ایک بڑے پیمانے پر پھیل تو گئی ہے لیکن اس کے مستقبل میں اثرات دونوں فریقین کے ما بین تعلقات پر خاصے اثر انداز ہوں گے۔